نئی دہلی، 23 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کے قومی دن کے موقع پر ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں پیغام بھیجا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ پیغام ہندوستان میں سیاسی تنازعہ کی وجہ بن گیا ہے۔
کانگریس اور اپوزیشن نے اس بابت پی ایم نریندر مودی پر سوالات کی بوچھار کر دی ہے۔کانگریس نے پوچھا ہے کہ کیا واقعی میں پی ایم نریندر مودی نے پاکستان کو کوئی پیغام بھیجا ہے؟ کیا عمران خان جس پیغام کوحاصل کرنے کا دعوی کر رہے ہیں وہی پیغام مودی نے انہیں بھیجا ہے؟ ان سوالوں پر پی ایم او کو جواب دینا چاہئے۔
بتا دیں کہ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان سے بگڑے تعلقات کے پیش نظر ہندوستان نے جمعہ کو نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں ملک کے قومی دن کے موقع پر منعقد پروگرام کا بائیکاٹ کیا تھا۔ہندوستان نے پروگرام میں جموں کشمیر سے بہت علیحدگی پسند لیڈروں کو مدعو کئے جانے پر احتجاج بھی کیا تھا۔اس لحاظ سے پی ایم کی طرف سے مبینہ طور پر پاکستان کو پیغام بھیجا جانا بحث میں آ گیا۔
عمران خان نے جمعہ کو ایک ٹویٹ کر کہاکہ پی ایم مودی سے پیغام ملا ہے، پاکستان کے قومی دن پر میں پاکستان کے لوگوں کو مبارکباد اور نیک خواہشات دیتا ہوں، وقت آ گیا ہے کہ برصغیر کے لوگ دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول میں جمہوری، پرامن، ترقی پسند اور خوشحال علاقے کے لیے مل کر کام کریں۔ نریندر مودی کا یہ پیغام پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ زبردست کشیدگی کے درمیان آیا ہے۔پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان میں گھس کر بالاکوٹ میں جیش محمد کے دہشت گرد ٹھکانے پر ایئر اسٹرائیک کیا تھا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے پیغام پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ وہ پی ایم مودی کے پیغام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ وسیع بات چیت شروع کرنے اور تمام مسائل کو حل کرنے کا وقت آ گیا ہے، خاص کر اہم مسئلہ کشمیر کو لے کرہے ۔اس کے ساتھ ہی امن اور خوشحالی کی بنیاد پر ایک نئے تعلقات کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔عمران خان کا یہ پیغام آتے ہی کانگریس نے پی ایم مودی پر سوال داغا۔پرینکا چترویدی نے زبردست تبصرہ اور لکھا کہ واہ مودی جی واہ۔کانگریس لیڈر پرینکا چترویدی نے کہا کہ پی ایم او کو واضح کرنا چاہئے کہ جس پیغام کا حوالہ عمران خان دے رہے ہیں ویسا ہی پیغام مودی نے بھیجا ہے۔
انہوں نے ٹویٹ کیاکہ مجھے امید ہے کہ پی ایم او انڈیا واضح کریں گے کیا ان دونوں رہنماؤں کے درمیان پیغام دیے بھی گئے ہیں، خاص طور پر تب جب ہندوستان میں حکومت نے پاکستان کے پروگراموں کا بائیکاٹ کیا تھ، یہ ملک جاننا چاہتا ہے۔عمران خان نے دعوی کیا تھا کہ پی ایم مودی نے پاکستان کے قومی دن پر انہیں پیغام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ برصغیر کے لوگ دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول میں جمہوری، پرامن، ترقی پسند اور خوشحال علاقے کے لیے مل کر کام کریں۔
عمران خان کے اس ٹویٹ کے بعد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھی تبصرہ کیا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ جس طرح پاکستان کے قومی دن میں شرکت کرنے جا رہے لوگوں کو روکا جا رہا ہے اسی طرح کچھ لوگ وزیر اعظم کو بھی پاکستان کے قومی دن پر پیغام دینے سے روکتے تو ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات میں اتنے متضاد نہیں نظر آتے۔